भेड़िया: स्टोरीबॉक्स विद जमशेद
Storybox with Jamshed Qamar Siddiqui
Professor Tabassum, a renowned physicist specializing in time travel research, is interrupted in her New York hotel room by a mysterious gir
Key takeaways
- Professor Tabassum is a leading researcher at Chandr Shekhar University and a former PMO consultant.
- Nina claims that in the year 2326, media houses control global perception through time-traveling journalism.
Main topics
- Time Travel Theory
- Future Journalism
Notable quotes
I am a time traveler from 300 years in the future.
Conclusion
A suspenseful introduction to a sci-fi mystery that blends scientific
Transcript preview
Speaker 1 (0:01) یہ آج تک ریڈیو ہے چلی آپ کو سناتا ہوں آپ کی ہی کہانی شروع کرتے ہیں نئی کہانی کا نیا سفر نیویورک سٹی کے اس خوبصورت فائیو سٹار ہوتیل کے روم میں داخل ہوتے پروفیسر تبسم نے کمرے پر ایک گہری نظر ڈالی روم بہت خوبصورت تھا انہوں نے زیادہ غور نہیں کیا کیونکہ وہ بہت تھکی ہوئی تھی جو سامان پہنچانے جو لڑکا آیا تھا اسے کچھ ڈالرز دے کر دروازہ بند کر لیا وہ پہلے بھی کئی بار نیویورک آ چکی تھی حالانکہ اس بار وہ پہلی بار کوئی اوورڈ لینے کے لیے نیویورک آئی تھی لمبی تھکان کی وجہ سے وہ پاس رکھے سوفے پر بیٹھ گئی پھر کچھ سوچ کر انہوں نے آنکھیں کھولی اور فون پر سوشل میڈیا سکرال کرنے لگی سکرین پر ایک نیوز سکرال کرتے ہوئے ان کی نظر ٹھہر گئی ایک بھیڑیے کی خوخار تصویر لگی ہوئی تھی اور لکھا تھا بھیڑیے کی حملے سے یو پی کے Speaker 1 (1:14) پروفیسر تبصم کو ایک جھٹکا سا لگا جیسے انہیں کچھ اچانک یاد آیا اور ان کے آنسو موٹے چشمے کے فریم کے پیچھے سے گالوں پر اڑھاکنے لگے چندرشیخر یونیورسٹی میں فیزکس پڑھانے والی پروفیسر تبصم دیش کی بڑی ریسرچر تھی کئی سرکاری غیر سرکاری پروجیکٹس میں ان کی ایرائے لی جاتی تھی وہ کسی زمانے میں پی ایم او میں کنسلٹنٹ بھی رہ چکی تھی فیزکس پر ان کی لکھے کتابیں نہ Speaker 1 (1:43) بیتے کئی سالوں سے وہ ٹائم ٹرائول پر ریسرچ کر رہی تھی اور ان کا ماننا تھا کہ ٹائم ٹرائول بالکل پاسبل ہے ایک جرمن میکزین کو دیئے انٹرویو میں انہوں نے کہا بھی تھا کہ آگے آنے والے وقت میں وہ شاید یہ بات ثابت کر دیں گی کہ سمیں میں آگے یا پیچھے جانا بالکل پاسبل ہے حالانکہ سائنس وولڈ جرنل میں ان کی جب یہ بات چھپی تو بہت سارے سائنٹس نے ان کا مزاک وڑایا تھا خیر تو پروفیسر تبصم اپنی پروفیشنل لائف میں بہت کامیاب تھی ان پر بہت چرچہ ہوتی تھی باتچیت ہوتی تھی لیکن اپنی پرسنل لائف میں وہ بہت اکیلی تھی ان کا کوئی بھائی بہن نہیں تھا شادی کے بعد شوہر کا انتقال کچھ آج سے دس سال پہلے ہو گیا تھا ایک جوان بیٹا تھا ان کا مرتضی وہ بھی تین سال پہلے ایک حادثے میں اس دنیا کو چھوڑ کے آتا حادثہ کیا تھا دراصل کسی وقت میں جہاں پروفیسر تبسم کا گھر تھا اس کے پیچھے والے جنگل میں آدم خور بھیڑیوں نے آتنک مچایا ہوا تھا اور انہی دنوں مرتضی کسی کام سے جب گھر سے جا رہے تھے تب ان پر بھیڑے نے حملہ کر دیا اور ان کے موت ہو گئی تو آج وہ سوشل میڈیا پر بھیڑے کی خبر دیکھ کے انہیں اچانک یہ سب یاد آ گیا پروفیسر تبصم پتی کو پہلے ہی کھو چکی تھی جب بیٹے کی موت ہوئی تو اس نے انہیں اور اندر سے کمزور کر دیا لیکن وہ دنیا کو یہ دکھاتی تھی کہ وہ بہت مضبوط ہے انہیں کسی کی ضرورت نہیں ہے وہ ایک سٹرونگ انڈیپینڈنٹ وومن ہے تو خیر آج جب اخبار میں انہوں نے بھیڑیے والی خبر دیکھی تو انہیں اچانک یہ سب یاد آ گیا تو آج وہ اپنے ہٹل کے کمپرے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ تب ہی ان کے دروازے پر ایک دستک ہوئی وہ اٹھیں دروازہ کھولا تو سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی بولی میم میں اندر آ سکتی ہوں اسٹیٹس ریلی ارجنٹ کالے رنگ کی عجیب سی بیگی پینٹ اور ایک جھبلے جیسی ڈھیلی کمیس پہنے وہ نیلی بڑی بڑی آنکھوں والی لڑکی جس کے بال کھولے تھے پروفیسر تبصر نے اس کے چہرے کی ہربڑا ہٹ دیکھی اور پھر اسے کچھ اس طرح سے دیکھا جیسے وہ اسے پہلے بھی کہیں دیکھ چکی ہیں کہا اندر آؤ وہ لڑکی آئی اور اسے سوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ سوفے کے سامنے والی جو سنگل سوفا چیئر ہوتی اس پر بیٹھ گئی پرو پروفیسر نے گہری سانس لی اور کہا پچھلے دو ڈھائی ہفتے سے میں نوٹس کر رہی ہوں کہ میں جہاں بھی جا رہی ہوں تم میرا پیچھا کر رہی ہو اس دن دلی میں وہ اے ڈی جی صاحب کے بیٹے کی ریسپشن میں بھی میں نے تمہیں دیکھا تھا تم ایکزٹ گیٹ کے پاس کھڑی تھی اس کے بعد وہ پیسیفک مال کی پارکنگ میں بھی میں نے تمہیں دیکھا تھا اور ایک رات تو میں نے تمہیں اپنے گھر کے باہر بھی دیکھا تھا اور اب تم یہاں نیو یورک میں میرا پیچھا کرتے Speaker 1 (4:48) وہ لڑکی بولی مہم آپ پلیس گھبرائیے بات میں میں بس آپ کی فین ہوں میں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی وہ میں جانتی ہوں کہ تم نقصان نہیں پہنچانا چاہتی اسی لئے میں نے تمہیں اندر بلایا پھر چاہتی کیا ہو مجھ سے مہم میں بہت ضروری کام سے آپ کے پاس آئے ہوں بہت دور سے آئے ہوں بہت دور سے مطلب