Qamar Abbas Qamar on Aamad, Loneliness and Finding Poetry | Rekhta Room Season 1 Episode 8

Jashn-e-Rekhta

In this episode of Rekhta Room, host Faisal Fehmi engages in an intimate conversation with poet Qamar Abbas Qamar about the nuances of langu

Key takeaways

  • Qamar Abbas Qaryar's linguistic roots were shaped by Bhojpuri, Awadhi, and religious traditions like Marsiya and Noha in Ghosi.
  • He pursued a Master's degree in Persian at Shia College, Lucknow, to connect with the historical foundations of Urdu.

Main topics

  • Literary upbringing and linguistic influences
  • The role of solitude in creativity

Notable quotes

تنہائی بہت زیادہ ہے اور زیادہ ہے اس کی وہ وجہ یہ ہے کہ میں بہت اپنے آپ کو تنہا بھی پاتا ہوں اور تنہا پاتا نہیں ہوں

Conclusion

The episode provides a profound look at how personal history and envir

Transcript preview

Speaker 2 (0:00) محبت کا کیا دخل رہا ہے آپ کی شائری میں؟ Speaker 1 (0:03) محبت تو ایک آفاقی جذبہ ہے اور یہ تو مجھے لگتا ہے کہ بلکل لازم ہے اور ضروری ہے اور اگر کوئی زندہ دل ہے تو اس کے اندر محبت پروان چڑھتی رہتی ہے محبت نے اپنی شکلیں بدلی ہیں مطلب آپ دیکھئے فیض کا مصرہ وہ جو رقیب سے آگ کی بابستہ ہیں اس حسن کی یادت اس سے کہنے کو تو یہاں ترقی پسندی کی بات ہو رہی ہے نا لیکن کہیں نہ کہیں رقابت میں بھی ایک محبت کا جذبہ موجود ہے میرے ہاں تنہائی بہت زیادہ ہے اور زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں بہت اپنے آپ کو تنہا بھی پاتا ہوں اور تنہا پاتا نہیں ہوں یہ میری چوائیس ہے تنہا رہنا اکیلے رہنا مجھے لگتا ہے کہ شائری کرنے کے لیے تنہائی بہت ضروری چیز ہے اکیلاپن ہے اور ایسا اکیلاپن جس میں آکیلا پن ہے اور Speaker 2 (0:51) ایسا آکیلا پن جس میں کوئی Speaker 1 (0:54) جو پوچھ لے کو سب بتانے لگتے ہیں Speaker 2 (0:56) کیا بات واہ واہ واہ آداب ناظرین ریختہ روم کے آج کے سیشن میں آپ کا خیر مقدم ہے آج کے ہمارے مہمان ہے جناب قمر عباس قمر صاحب آپ کا بہت بہت استقبال اور بہت خوشی ہوئی آپ کو دیکھ کے آج بہت عرصے بعد میں آپ سے مل رہا ہوں تو یہ ہے کہ ہماری دوستی تو رہی ہے تو یہ پہلی بار میں اس طرح آپ سے بات کر رہا ہوں اور شاید اس دوستی میں بہت ساری چیزیں جو ہے مجھے بھی نہیں پتا تو آج شاید بہت شکریہ میں Speaker 1 (1:41) بہت شکر گزار ہوں ریختہ کی پوری ٹیم کا کہ مجھے اس سیشن کا آیا حصہ بنایا پاٹ بنایا اور یہاں مدعو کیا اور باتیں ہوں گی بلکل آپ نے جیسا کہ عرض کیا کہ دوستی رہی ہے اور بہت کچھ ایسا ہوتا ہے کہ دوستوں کو پتہ نہیں ہوتا کبھی اس طرح گفتگو نہیں ہو پاتی ہے آج اس انٹرویو کے ذریعے سے بہت کچھ انشاءاللہ باتیں ہوں گی اور شاعری پر تو گفتگو بند نہ ہو بات سے بات چلے Speaker 2 (2:09) جی آپ پہلے تو اپنے بارے میں اپنی زندگی کے بارے میں آپ کہاں پیدا ہوئے آپ ابھی تک کا سفر آپ کا کیسا رہا اس کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیے Speaker 1 (2:20) سب سے پہلے تو میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرا تعلق جو ہے وہ مو زلے کے قصبے سے ہے جس کا نام گھوسی ہے Speaker 2 (2:30) اور Speaker 1 (2:31) تقریباً مسلمانوں کی بہت چھوٹی سی بستی ہے اور یہاں میری پیدائش ہوئی گھوسی میں اور گھوسی میں اگر آپ بات کریں کہ شائری کے حوالے سے خاص کر اردو کی شاعری کے حوالے سے تو وہاں کی میں بتا دوں آپ کو بات ایک بہت ضروری بات کہ وہاں کی زبان بھی اردو نہیں ہے جو ایک بھوشپوری کا بہت بڑا اثر ہے اس کے ساتھ عودی کا بھی اثر ہے تو ایک مشرن ہے زبان کا اور وہ بولی جاتی ہے تو میں بتا دوں کہ جو ہمارا خانوادہ ہے جو ہمارا گھر ہے اس پر آزائی تہذیب کا بڑا اثر رہا خاص کر گھوسی پر آزائی تہذیب جو ہے وہ مسلط ہے وہ غالب ہے تو آزائی تہذیب سے مطلب آپ واقع ہیں کہ مرسیہ نوحے سلام منقبض کا سلسلہ ہمیشہ رہتا ہے تو وہاں محفلوں ہوتی ہیں مجلسیں ہوتی ہیں تو آنا جانا لگا رہتا تھا تو بشپن سے ہی مرسیہ سنتے آ رہا ہوں منقبض سنتے آ رہا ہوں سلام سنتے آ رہا ہوں تو کہیں نہ کہیں ان ساری چیزوں کو سنتے ہوئے میرے اندر بہت ساری چیزیں ایک روانی ایک تسلسل کلام کو لے کر ایک شوق پیدا ہو گیا اردو سے محبت ایک پیدا ہو گیا لگاؤ پیدا ہو گیا Speaker 2 (3:46) تو Speaker 1 (3:47) بہرحال یہ چل کے آگے اس نے جو ہے غزل کا روپ لے لیا اور جو کچھ ہوں میں آپ کے سامنے ہوں Speaker 2 (3:55) تو یہ اس میں اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی اور وہ ایک چونکہ کانٹیکسٹ بھی مل جاتا ہے کہ آپ نے پڑھائی کیا کی اور کیا کیا اور مصروفیات رہی ہیں آپ کی ابھی تک اور ابھی کیا کر رہے ہیں تو یہ ایک بات بھی اگر سامنے آ جائے تو تو Speaker 1 (4:15) اس زمان میں تو میں بتا دوں اس زمانے کے آپ میں تو یہ بات بھی نہیں کہہ سکتا کہ بہت پرانی بات نہیں ہے تقریباً میرے ابتدائی جو تعلیم رہی جو بچپن میں تعلیم ہوئی وہ مدرسے میں ہوئی وہیں ایک مدرسہ حسینیہ ہے وہاں سے میری تعلیم رہی ابتدائی تعلیم اس کے بعد میں لکھنو گیا اور لکھنو میں شیعہ کالیج سے میں نے بی اے اور ماسٹرز کیا لکھنو انورسٹی سے پرشین لینگویج میں میں نے ماسٹرز کیا ہے تو کہیں نہ کہیں پرشین لینگویج میں ماسٹرز کرنے کا مقصد بھی یہ تھا کہ میں اس تہذیب سے واقف ہو جاؤں جو اردو میں مستحر ہے جو اردو پوری زبان پر جو ہے ایک بڑے لیول پر دیکھا جائے جو زبان کا سب سے زیادہ اثر ہے وہ فارسی کا ہے تو اس لیے میں نے فارسی میں اپنا شوق ظاہر کیا اور فارسی چوز کیا اور فارسی میں نے ماشٹرس کیا Speaker 2 (5:07) کیا بات ہے تو اسی سے جڑا ہوا پہلے ایک سوال پوچھ لیتا ہوں کہ آپ نے کہا کہ جو مرسیہ خانی ہوتی تھی گھروں میں اور وہ جو آوازیں آپ کے کانوں پر پڑتی تھی ان سے شاید کہیں نہ کہیں وہ ترنگے پیدا ہو گئی شائری کی آپ کے اندر پر ایک کوئی یہ تو ہے کہ یہ ایک continuous process ہے چلتا رہا ہوگا پر ایک ایسا وقت آیا ہوگا جب آپ کو لگا ہوگا کہ مجھے بھی کچھ کہنا چاہیے یا مجھ میں ایسی صلاحیت ہے کہ میں کہہ سکوں اور اس میں آپ نے سب سے پہلے کیا کہا Speaker 1 (5:47) جیسا کہ آپ سے ذکر ہوا شروع میں کہ ہم نے مرسیے اور نوحے سنتے رہے اور اس کی وجہ سے موزونیت پیدا ہوئی ایک لے اپنے وجود میں اس نے ایک جگہ بنا لی کہ دراصل مصرے کس طرح بونے جاتے ہیں تو بہرحال لکھنو کے دنوں میں جب میں لکھنو میں رہا کرتا تھا تو لکھنو میں اے آئی آئی آئی اے فیم کے ذریعے سے میں نے غزلیں سننا شروع کیا Speaker 2 (6:10) اور Speaker 1 (6:10) کبھی جگجی سن کی آواز میں کبھی مہدی حسن کی آواز میں کبھی اور دوسرے جو گلوکار ہیں غزل گلوکار غزل گانے والے تو ان لوگوں نے مجھے اس طرف متوجہ کیا غزل کی طرف بہرحال موزونیت پہلے سے تھی تو سب سے پہلا مصرہ میں نے سن دوہزار سات یا آٹھ میں مجھے صحیح سے یاد نہیں آرہا ہے سن کونسا تھا آٹھ میں میں نے غزل کا مصرہ کہا تھا اور وہ مصرہ بھی میرے ذہن میں صحیح سے یاد نہیں آرہا ہے لیکن تیرے بغیر اس کی ردیف تھی Speaker 2 (6:43) ہوتا Speaker 1 (6:44) نہیں ہے دل میں اجالہ تیرے بغیر کسی نے یہ مصرہ دیا تھا تو اس پر میں نے تضمین کہی تھی Speaker 2 (6:49) اچھا یہ تو تضمین مجھے یاد نہیں رہی ہوتا نہیں ہے Speaker 1 (6:53) دل میں اجالہ تیرے بغیر سورج کے سامنے ہوا مدھم قمر کا نور ہوتا نہیں ہے دل میں اجالہ تیرے بغیر Speaker 2 (7:04) یہ میں Speaker 1 (7:05) نے پہلا شیر جسے کہتے ہیں تضمین کے طور پر پہلا شیر میں نے کہا تھا Speaker 2 (7:09) یہ جو آپ نے قمر جو ہے آپ نے شروعات میں ہی تخلص رکھ جاتا Speaker 1 (7:15) ہے کے طور پر میں نے اس کو برتا کہ سورج ہے تو قمر کا التزام ضروری ہے اسی Speaker 2 (7:20) طرح یہ میرا ایک سوال تو ہے جانی یہ بات تو ہے کہ آپ کا نام جو ہے وہ بڑا دلچسپ لگتا ہے مجھے کہ آپ نے اپنا پورا نام رکھا ہے قمر عباس قمر Speaker 1 (7:32) تو Speaker 2 (7:33) یہ دو قمر جو ہیں یہ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے کسی نے مجھے کسی Speaker 1 (7:40) محفل میں کہا تھا میں بھی وہاں موجود تھا کہ ان کا تعارف یہ ہے کہ یہ دو قمر کے بیچ میں ایک عباس ہے میرا جو اصل نام ہے وہ قمر عباس ہے اور شروع میں میں قمر تخلص کرتا تھا تو سوشل میڈیا پہ خاص کر فیس بک پہ جب میں آیا اور میں نے شیر کہنا شروع کیا تو اسی نام سے میں نے شعری شروع کی قمر عباس لیکن ایک بار جب میں سوشل میڈیا سکرول کر رہا تھا فیس بک اور مجھے پتا چلا کہ ایک شاعر ہیں جو دلی سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے بڑے عزیز دوستوں ہیں ابباس خمر اس نام کے بھی ایک شاعر موجود ہیں تو بہرحال جب میری نظر پڑی تو مجھے امتیاز کے لیے مجھے ضرورت ہوئی کہ میں کچھ ایسا نام یا ایک لفظ کا اضافہ کر لوں یا قمر لفظ کا اضافہ کر لو تاکہ ایک انتیاز خائم ہو سکے انفراد مطلب ایک انڈویجول شخصیت نام کے طور پر الگ کی جا سکے تو میں نے پھر کمر ابباس کمر کر لی حالانکہ اب بھی ایسا ہوتا ہے کہ انسٹرگرام پہ میں دیکھتا ہوں کہ بہت ساری ریلز مجھے ٹیگ ہوتی ہیں Speaker 2 (8:49) اور Speaker 1 (8:50) جب میں جاتا ہوں تو وہ میری ریلز نہیں ہوتی ہیں میری ریلز بالکل نہیں ہوتی ہیں وہ ابباس کمر کی ہوتی ہیں تو میں ان سے ذکر بھی کرتا ہوں کہ دیکھئے صاحب آپ کی کوئی ریل ہے وہ ہمیں ٹیگ کر دی گئے کلتی سے تو وہ بھی مسکراتے ہیں کیا کر سکتے ہیں Speaker 2 (9:03) بہت انٹریسٹنگ بات پتا چلی مجھے کہ آپ کے اصل میں جو کیا وجہ ہے یہ جو دو کمر ہے پھر اس سے آپ جو سوشل