Episode 10: O’ Des Se Aane Vaaley Bataa

Aam Naama

This episode of the Cine Ink podcast 'Aam Naama' explores the deep historical and literary connection between the Indian subcontinent and th

Key takeaways

  • The first orchard of 'Qalmi Aam' (grafted mangoes) in India was established around 1618 by Muqarrab Khan in Bihar.
  • Emperor Jehangir personally traveled to Kirana to experience the famous grafted mangoes described in his memoirs, the Tuzuk-e-Jahangiri.

Main topics

  • History of Mughal horticulture
  • Urdu literature and mango imagery

Notable quotes

Humanity is divided between my mango and yours.

Conclusion

The episode serves as a sensory journey through time, celebrating the

Transcript preview

Speaker 5 (0:14) سنے انک کی اس پاڈکاسٹ سیریز کے دس میں پروگرام کے ساتھ میں پرویز علم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آداب نمسکار Speaker 5 (0:27) یہ سیریز آمنامہ سن دوہزار بیس کے اس دور میں شروع ہوئی جب کوویڈ نائنٹین کے وائرس نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں کر رکھا تھا اور اب اس دسویں پروگرام تک آتے آتے ہم سب دور امید کے کرن دیکھ رہے ہیں روشنی صاف نظر آنے لگی ہے آموں کے پیڑوں پر بور جوانے کی طرح اٹھلا رہا ہے دیکھ زندہ سے پرے رنگ چمن جوش بہار رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ مجروح سلطان پری کا یہ شیر بے اختیار یاد آگیا Speaker 5 (1:10) آم نمہ سیریز میں ہم نے کئی کانٹروورسیز متنازہ ٹاپکس بھی چھیڑے جیسے کہ آپ آم کاٹ کر کھاتے ہیں یا گھٹلی کے ساتھ جواب نہیں ملا سوال سن کر لوگ ہنسنے لگے کچھ نے کہا کہ یہ تو بہت ہی سیاسی سوال ہے جواب نہیں دیں گے سیڈیشن کا خطرہ ہے ہم بھی ٹال گئے ایک اور ٹاپک تھا جس پر آپ میں سے بہت سو کی بھمیں تن گئیں لہجہ سخت ہو گیا اور وہ تھا کہ آپ کا فیورٹ آم کونسا ہے ہمیں اندازہ تھا کہ کیسا ریسپونس ہوگا اس لئے کہ ہم نے سن رکھا تھا کہ اس سوال پر تلوانیں کھچ جاتی ہیں انسانیت میرے اور تیرے عام میں بٹ جاتی ہے آج اس پروگرام میں ہم اسی ٹوپک پر آپ کے کمنٹس شامل کریں گے فیڈبیک میں اسی پروگرام میں مشہور فلمی گیتکار اور شاعر گلزار کی ایک نظم عام آپ سن سکیں گے یہ بھی جانیں گے کہ گوہ کے علاوہ پورے ہندوستان میں قلمی عاموں کا پہلا باغ کہاں لگایا گیا اور اب وہ کس حالت میں ہیں اور ایک بار پھر غالب کا ذکر تو ہو گئی کہ انہوں نے دوستوں کے نام اپنے خطوں میں آم کا ذکر کس طرح کیا ہے نوویل نگار دیویش ورما ان کا ایک خط پڑھیں گے غالب کی مصنوی در صفت امبا سے ان کے کچھ اشار معنی کے ساتھ آپ تک پہنچائیں گے مہر علم خان صاحب لیکن آج کے پروگرام کی خاص پیشکش ہے اردو افثانوں میں آم کا درجہ ڈاٹکاسٹر ممتہ گبتہ پیش کریں گی اب الفضل صدیقی کے افثانیں گلاب خاص سے ایک اقتباس ایکسپٹ اور ساتھ میں سنیے گا سادت حسن منٹو کے افسان عام کا ذکر اور بھی بہت کچھ ہے آپ کے دوست مہرالم خان صاحب آج کے پروگرام کی نوٹ پلک سوانے میں لگے ہوئے ہیں Speaker 3 (2:47) ہندوستان یا انڈین سب کانٹیننٹ جس میں بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش تینوں موالک شامل ہیں یہاں کے لوگوں کے لیے آم صرف ایک خوش رنگ خوشبودار میٹھے رسیلے اور ذائقے دار پھل کا نام نہیں ہے بلکہ ان کے لیے آم زندگی اور زندگی کی خوشیوں اور محبتوں کی ایک بھرپور علامت ہے ان کا پرتیک اور سمبل ہے اور آم کا پھلی کیا اس کا بور اس کا بیج اس کے پتے اس کی شاخیں اس کا درخت سبھی کچھ تو ہندوستانی تہذیب اور ہندوستانی کلچر یہاں کے قدیم ریلیجنس یہاں کی رسموں یہاں کے لٹرچر میں اس طرح رچا اور بسا ہوا ہے کہ جیسے پھول میں خوشبو Speaker 5 (3:26) مہر عالم خانے کہا جیسے پھول میں خوشبو اور جب کوئل بولتی ہے برکھا کی بوندیں آنگن میں گرتی ہیں یہ خوشبو تیز ہواوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر وطن سے دور کسی کے دل میں کیسی حلچل پیدا کرتی ہے شاعر اختر شیرانی نے ہم جیسے بہت سے جلہ بطن لوگوں کے لیے جو کہا وہ شیف علی فروس نے کس قدر خوبصورتی سے گن گنایا ہے Speaker 7 (4:51) وطن وہ باہر پھر دوسرے وطن وہ باہر Speaker 7 (5:11) آم Speaker 5 (5:12) نامہ کے لیے خصوصی طور پر شیف علی فروس نے اختر شیرانی کی یہ نظم ریکارڈ کی ہے جو سمجھئے اس پروگرام کا تھیم سانگ ہے تو پہلے آم اور غالب مرزا اسداللہ خان غالب اپنی مشہور مسنوی در صفت امبا میں کہتے ہیں یا یہ ہوگا کہ فرط رافت سے باغبانوں نے باغ جنت سے انگمی کے بحکم رب الناس بھر کے بھیجے ہیں سربہ مہر کلاس مہرالم خان صاحب ذرا تشریح کیجئے اور اس بات کو آگے تک لے جائیے Speaker 3 (5:45) جیسے پہلے مصرے میں فرط رافت فرط کہتے ہیں زیادتی کو اور رافت کے معنی ہوتے ہیں کمپیشن کے مہربانی کے یا تیسرے مصرے میں ایک لفظ آیا ہے انگبین جس کے معنی ہوتے ہیں شہد یا ہنی کے اور رب الناس تو آپ سمجھتے ہی ہوں گے خدا کے معنیوں میں یہ ایکسپریشن استعمال ہوتا ہے سربہ مہر کے معنی ہیں سیل بند یعنی مہربند یا سیل غالب کے ان اشار کا مطلب سادہ سی پروز میں کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ غالب کو بہادر شاہ زفر کے چوتھے بیٹے مرزا فخرو نے جو آم توفتن بھیجے تھے وہ گویا خدا کے حکم سے باغبانوں نے جنت سے انتہائی مہربانی کے ساتھ شہد کے سیل بند گلاس تھے یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ گلاس نام کا ایک بہت رسیلہ آم بھی ہوتا ہے اسی مسنویت سے آم کی تعریف میں دو اشار اور ملاحظہ فرما لیجئے کہتے ہیں غالب یا لگا کر خضر نے شاخ نبات مدتوں تک دیا ہے آبِ حیات تب ہوا ہے سمر فشا یہ نخل ہم کہاں ورنا اور کہاں یہ نخل خضر مسلمانوں کے ایک پیغمبر کا نام ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ راستہ دکھانے والے پیغمبر ہیں یعنی پروفٹ ہیں اور یہ بھی کہ ان کو آبِ حیات یعنی water of life کا ایک fountain حاصل تھا اور نخل کے معنی پیڑ کے ہوتے ہیں اور سمر فشا کا مطلب پھل آنے سے ہے ان اشار میں غالب فرماتے ہیں کہ حضرت خضر نے آم کی شاک کو زمین میں لگا کر مدتوں تک آب حیات سے سینچا تب کہیں جا کر اس پیڑ پر پھل آئے اور اس طرح یہ پیڑ اور اس کے پھل بڑی اہمیت کے مالک ہیں اور یہ پھل ہمیں نصیب ہوں یہ ہماری بڑی خوش نصیبی ہے غالب کی شاعری ہی نہیں انہوں نے اپنے دوستوں کو جو خط لکھے وہ بھی اردو پروز کا آلہ نمونہ خیال کیا جاتے ہیں اور آم کا ذکر خطوطِ غالب میں بھی بہت جگہ ملتا ہے اپنے دوست منشی نبی بخش حقیر کو غالب اپنے خط میں لکھتے ہیں بھائی صاحب الحمدللہ اور تو سب خیر Speaker 4 (7:49) و Speaker 3 (7:49) آفیت ہے مگر گرمی کی وہ شدت ہے کہ اعظم باللہ میں آپ احتراق کا مارا دوسرے یہ مسئلہ ایک وقت کا کھانا کھانے والا سو وہ اب موقوف غزہ منحصر دہی پر ہے کہاں تک دہی کھاؤں کیا کروں احتراق میں مر رہا ہوں مگر عاموں کو تاکتا ہوں کہ کب نکلیں بنگالے میں یقین ہے کہ عام چل نکلے ہوں گے دو برس کلکتے میں رہا ہوں جون کے مہینے میں عام پکتے ہیں دن تین ایک ہوئے ایک میوہ فروش پانچ عام لائیا تھا مزہ نہ تھا لو کے پکے ہوئے تھے لو کے پکے ہوئے عام غالب کو پسند نہیں تھے یہ بات ہے جون اٹھارہ سو چون کی مگر پانچ ورس بعد جولائی 1869 میں غالب نے اپنے عزیز شاگرد میر مہدی کے نام یہ خط لکھا اور اس میں عاموں کے بارے میں جو ذکر کیا وہ انتہائی مزیدار ہے اس قصے کے ساتھ حاضر ہیں Speaker 4 (8:44) دیویش فرما شام ہوئی چراغ روشن ہوا منشی سید احمد حسین سرہانے کی طرف موڑھے پر بیٹھے ہیں میں پلنگ پر لیٹا ہوا ہوں کی ناگاہ چشم و چراغ دودھ مانے علم و یقین سید نصیر الدین آیا ایک کوڑا ہاتھ میں اور ایک آدمی ساتھ اس کے سر پر ایک ٹوکرا اس پر گھاس ہری بچھی ہوئی میں نے کہا آہاہاہا سلطان العلماء مولانا سرفراز حسین دہلوی نے دوبارہ رسد بھیجی ہے بارے معلوم ہوا کہ وہ نہیں ہے یہ کچھ اور ہے فیض خاص نہیں لطف عام ہے یعنی شراب نہیں عام ہے خیر یہ عطیہ بھی بے خلل ہے بلکہ نیمل بدل ہے ایک ایک آم کو ایک ایک سرب مہر گلاس سمجھا لکیور سے بھرا ہوا مگر واہ کس حکمت سے بھرا ہوا ہے کہ پینسٹھ گلاس میں سے ایک قطرہ نہیں گرا ہے میاں کہتا تھا کہ یہ اسی تھے پندرہ بگڑ گئے بلکہ سڑ گئے تا ان کی برائی اوروں میں سرائط نہ کرے ٹوکرے میں سے پھینک دیئے میں نے کہا بھائی یہ کیا کم ہے مگر میں تمہاری تکلیف اور تکلف سے خوش نہیں ہوا تمہارے پاس روپیہ کہاں جو تم نے آم خریدے اپنے Speaker 5 (10:17) شاگرت میر مہندی کے نام غالب کا خط سنا رہے تھے برادکاسٹ دیویش فرما جن کا پہلا انگریزی نوویل دی پالیٹیشن ابھی منظر آم پر آیا ہے جسے پینگوئن نے شائع کیا ہے Speaker 1 (10:29) سنے انک ہندی اردو کے پاڈکاس کا مشہور منچ پلیز چیک کر ویب سائٹ سنے انک ڈاٹ کام آپ Speaker 5 (10:38) سن رہے ہیں سنے انک کی پاڈکاس سیریز آمنامہ یہ دس ماہ اپیسوٹ ہے میرا نام ہے پرویز علم سوچا تھا یہی آخری ہوگا لیکن شاید ہوگا نہیں اس لیے کہ فیلحال تو ہم آمنامہ سے الودا کہہ دیں گے لیکن دعا کیجئے کہ جلد حالات نورمل ہوں اور آموں کے سیزن میں مینگو پارٹیاں پھر سے شروع ہوں آمنامہ کی ٹیم بھی آم کے باغوں کی سیر کرے اور مہاں سے پھر ایک دو پروگرام اور پیش کیا جائیں